المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن أبي عبيد مولى سلمة، عن سلمة باب: یزید بن ابی عبید، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 6265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ فَقَالَ: «ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ، فَقَدْ كَانَ أَبُوكُمْ رَامِيًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ» فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ؟» قَالُوا: نَرْمِي يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنْتَ مَعَهُمْ؟ قَالَ: «ارْمُوا، وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ»ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی اسماعیل! تیر چلاؤ، تمہارے باپ (اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے، تیر چلاؤ اور میں فلاں گروہ کے ساتھ ہوں۔“ اس پر ایک گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا تیر کیوں نہیں چلاتے؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم کیسے تیر چلائیں جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیر چلاؤ، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔“