حدیث نمبر: 6263
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلِّ عَلَى هَذِهِ؟ قَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قِيلَ: لَا , قَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ» قَالُوا: لَا , فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا , قَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ، قَالَ: «ثَلَاثُ كَيَّاتٍ» ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ
ترجمہ

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیجیے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟“ عرض کیا گیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ میں کھڑا ہی تھا کہ ایک اور جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، تین دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین داغ ہیں۔“ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے، پھر ایک اور جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6263
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 31، حدیث 6290