المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن أبي عبيد مولى سلمة، عن سلمة باب: یزید بن ابی عبید، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلِّ عَلَى هَذِهِ؟ قَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قِيلَ: لَا , قَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ» قَالُوا: لَا , فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا , قَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ، قَالَ: «ثَلَاثُ كَيَّاتٍ» ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِسیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیجیے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟“ عرض کیا گیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ میں کھڑا ہی تھا کہ ایک اور جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، تین دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین داغ ہیں۔“ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے، پھر ایک اور جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔