المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب سمة الإبل، وأين موضعه منها باب: اونٹوں پر داغ لگانے اور اس کی جگہ کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا الْفَيْضُ بْنُ الْوَثِيقِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَجَرٍ الْأَسْلَمِيُّ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْعَرْجِ، أَخْبَرَنِي أَبِي مَالِكُ بْنُ إِيَاسَ، أَنَّ أَبَاهُ إِيَاسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهَ أَوْسَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَجَرٍ الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخَذَوَاتَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ، وَهَرْشَا، وَهُمَا عَلَى جَمَلٍ وَاحِدٍ، وَهُمَا مُتَوَجِّهَانِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَهُمَا عَلَى فَحْلِ إِبِلِهِ ابْنُ الرِّدَاءِ، وَبَعَثَ مَعَهُمَا غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ، فَقَالَ لَهُ: اسْلُكْ بِهِمَا حَيْثُ تَعْلَمُ مِنْ مَخَازَمِ الطُّرُقِ، وَلَا تُفَارِقْهُمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَاجَتَهُمَا مِنْكَ، وَمِنْ جَمَلِكَ، فَسَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الزَّمْحَاءِ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْكُوبَةِ، ثُمَّ قَبِلَ بِهِمَا أَحْيَاءَ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْمُرَّةِ، ثُمَّ أَتَى بِهِمَا مِنْ شُعْبَةِ ذَاتِ كَشْطٍ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُدْلَجَةَ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْعِشَالَةَ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْمُرَّةِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا الْمَدِينَةَ، وَقَدْ قَضَيَا حَاجَتَهُمَا مِنْهُ وَمِنْ جَمَلِهِ، ثُمَّ رَجَّعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْعُودًا إِلَى سَيِّدِهِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ مُغَفَّلًا لَا يَسِمُ الْإِبِلَ «فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ أَوْسًا أَنْ يَسِمَهَا فِي أَعْنَاقِهَا قَيْدَ الْفَرَسِ» قَالَ صَخْرُ بْنُ مَالِكٍ: «وَهُوَ وَاللهِ سَمْتُنَا الْيَوْمَ، وَقَيْدُ الْفَرَسِ فِيمَا أَرَى حَلْقُ حَلْقَتَيْنِ، وَمَدُّ بَيْنَهُمَا مَدًّا»سیدنا اوس بن عبداللہ بن حجر اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ خذوات کے مقام پر جحفہ اور ہرشیٰ کے درمیان تھا، اور وہ دونوں ایک ہی اونٹ پر سوار تھے اور مدینہ کی طرف جا رہے تھے۔ تو انہوں (اوس) نے ان دونوں کو اپنے اونٹوں کے نر اونٹ ابن الرداء پر سوار کر دیا، اور ان کے ساتھ اپنا ایک غلام بھیجا جسے مسعود کہا جاتا تھا، اور اس سے کہا: انہیں راستوں کے جن تنگ حصوں کو تم جانتے ہو ان سے لے جانا، اور ان سے اس وقت تک جدا نہ ہونا جب تک وہ تم سے اور تمہارے اونٹ سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لیں۔ چنانچہ وہ انہیں ثنیۃ الزمحاء سے لے گیا، پھر ثنیۃ الکوبہ سے، پھر ان کے ساتھ آبادیوں کی طرف رخ کیا، پھر ثنیۃ المرہ سے لے گیا، پھر انہیں شعبۃ ذات کشط سے لایا، پھر انہیں مدلجہ سے لے گیا، پھر عشالہ سے، پھر (دوبارہ) ثنیۃ المرہ سے، پھر انہیں مدینہ میں داخل کیا، اور دونوں نے اس سے اور اس کے اونٹ سے اپنی ضرورت پوری کر لی تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مسعود کو اس کے مالک اوس بن عبداللہ کی طرف واپس بھیج دیا، اور وہ ایک بھولے بھالے شخص تھے جو اونٹوں پر داغ نہیں لگاتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اوس کو حکم دے کہ وہ ان کی گردنوں پر ”قید الفرس“ (گھوڑے کی رسی کے نشان جیسا) داغ لگائے۔ صخر بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! یہی آج ہمارا نشان ہے، اور “قید الفرس” میری رائے میں دو حلقے بنانا ہیں اور ان کے درمیان ایک لکیر کھینچنا ہے۔“