المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو سعيد عن سلمان رضي الله عنه باب: ابوسعید رضی اللہ عنہ کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الثَّعْلَبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ نَاصِحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لِكُلِّ نَبِيٍّ وَصِيٌّ، فَمَنْ وَصِيُّكَ؟ فَسَكَتَ عَنِّي، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ رَآنِي، فَقَالَ: «يَا سَلْمَانُ» فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ، قَالَ: «تَعْلَمُ مَنْ وَصِيُّ مُوسَى؟» قُلْتُ: نَعَمْ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ، قَالَ: «لِمَ؟» قُلْتُ: لِأَنَّهُ كَانَ أَعْلَمُهُمْ، قَالَ: «فَإِنَّ وَصِيِّ وَمَوْضِعُ سِرِّي، وَخَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي، وَيُنْجِزُ عِدَتِي، وَيَقْضِي دَيْنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " قَوْلُهُ: وَصِيِّ: يَعْنِي أَنَّهُ أَوْصَاهُ فِي أَهْلِهِ لَا بِالْخِلَافَةِ، وَقَوْلُهُ: خَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي: يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے، تو آپ کے وصی کون ہیں؟ آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ عرصے بعد آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اے سلمان!“ میں فوراً آپ کی طرف لپکا، میں نے عرض کیا: لبیک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے موسیٰ علیہ السلام کے وصی کون تھے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یوشع بن نون۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: کیونکہ وہ ان میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس بیشک میرے وصی، میرے راز کی جگہ، میرے بعد چھوڑنے کے لیے بہترین، میرا وعدہ پورا کرنے والے اور میرا قرض ادا کرنے والے علی بن ابی طالب ہیں۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے قول ”میرے وصی“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں وصیت کی تھی، خلافت کے بارے میں نہیں۔ اور آپ ﷺ کے قول ”میرے بعد چھوڑنے کے لیے بہترین“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اہلِ بیت میں سے بہترین۔