❮
❯
حدیث نمبر: 6038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الثَّعْلَبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ نَاصِحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لِكُلِّ نَبِيٍّ وَصِيٌّ، فَمَنْ وَصِيُّكَ؟ فَسَكَتَ عَنِّي، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ رَآنِي، فَقَالَ: «يَا سَلْمَانُ» فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ، قَالَ: «تَعْلَمُ مَنْ وَصِيُّ مُوسَى؟» قُلْتُ: نَعَمْ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ، قَالَ: «لِمَ؟» قُلْتُ: لِأَنَّهُ كَانَ أَعْلَمُهُمْ، قَالَ: «فَإِنَّ وَصِيِّ وَمَوْضِعُ سِرِّي، وَخَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي، وَيُنْجِزُ عِدَتِي، وَيَقْضِي دَيْنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " قَوْلُهُ: وَصِيِّ: يَعْنِي أَنَّهُ أَوْصَاهُ فِي أَهْلِهِ لَا بِالْخِلَافَةِ، وَقَوْلُهُ: خَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي: يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے، تو آپ کے وصی کون ہیں؟" آپ ﷺ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ عرصہ بعد آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اے سلمان!“ میں جلدی سے آپ کی طرف بڑھا اور عرض کیا: حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو موسیٰ علیہ السلام کے وصی کون تھے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یوشع بن نون۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: کیونکہ وہ ان میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میرے وصی، میرے راز کی جگہ، میرے بعد چھوڑے جانے والوں میں سب سے بہتر، میرا وعدہ پورا کرنے والے اور میرا قرض ادا کرنے والے علی بن ابی طالب ہیں۔“ ابو القاسم (طبرانی) کہتے ہیں: آپ ﷺ کے قول "میرے وصی" کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنے اہلِ خانہ کے بارے میں وصیت کی، نہ کہ خلافت کے بارے میں، اور آپ ﷺ کے قول "میرے بعد چھوڑے جانے والوں میں سب سے بہتر" سے مراد آپ ﷺ کے اہلِ بیت میں سے سب سے بہتر ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6038
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 221، حدیث 6063