المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صالح بن موسى الطلحي، عن أبي حازم باب: صالح بن موسیٰ طلحی کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5962
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: «كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ، وَقَدْ مُزِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا، فَصَارُوا هَكَذَا - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ -؟» ، قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «اعْمَلْ بِمَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللهِ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَدَعْ عَوَامَّهُمْ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے نکمے طبقے میں باقی رہ جاؤ گے، جن کے عہد و امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی اور وہ اختلاف کر کے ایسے ہو جائیں گے“ - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں آپس میں ملا دیں - عبداللہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے تم اچھا سمجھو اسے اختیار کرو اور جسے برا سمجھو اسے چھوڑ دو، دین اللہ میں رنگ بدلنے سے بچو، اپنی ذات کی فکر کرو اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو۔“