❮
❯
حدیث نمبر: 5940
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ فَصَمَتَ، ثُمَّ عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَصَمَتَ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا قَائِمَةً مَلِيًّا أَوْ هَوِيًّا تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ وَهُوَ صَامِتٌ، فَقَامَ رَجُلٌ أَحْسَبُهُ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: «أَلَكَ شَيْءٌ؟» قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَالْتَمِسْ شَيْئًا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا غَيْرَ ثَوْبِي هَذَا أَشُقُّهُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فِي ثَوْبِكَ فَضْلٌ عَنْكَ، فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «مَاذَا؟» قَالَ: سُورَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لیے ہبہ کر دیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ پھر اس نے دوبارہ اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ ﷺ پھر خاموش رہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ وہ عورت کافی دیر تک کھڑی رہی اور اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کرتی رہی جبکہ آپ ﷺ خاموش تھے۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا، میرا خیال ہے وہ انصار میں سے تھا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور کچھ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے اپنے اس کپڑے کے سوا کچھ نہ ملا، اسے میں اپنے اور اس کے درمیان آدھا آدھا کر لیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے کپڑے میں کوئی گنجائش نہیں، بتاؤ کیا تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ وہ شخص چل پڑا اور وہ عورت اس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5940
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 190، حدیث 5961