المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن عبد الرحمن بن أبي مليكة عن أبي حازم باب: محمد بن عبدالرحمن بن ابی ملیکہ کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5901
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ الْأَنْصَارِ كَوْنٌ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: «إِنِ احْتُبِسْتُ، فَأَقِمِ الصَّلَاةَ، وَمُرْ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ» ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى خَلْفَهُترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا، تو نبی کریم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر مجھے دیر ہو جائے تو تم نماز کھڑی کر دینا اور ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ پھر نبی کریم ﷺ اس وقت تشریف لائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔