حدیث نمبر: 585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَفْضَلَ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ فِيهِ مِنَ الصَّلَاةِ، إِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلِيتَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ»
ترجمہ

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعے کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن (صور میں) پھونک ماری جائے گی، اور اسی دن بےہوشی (طاری) ہوگی، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ (اس وقت مٹی میں) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ - راوی کہتے ہیں: یعنی (صحابہ نے لفظ) ”اَرِمْتَ“ سے مراد ”بلیتَ“ (بوسیدہ ہو جانا) لیا - آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 585
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 216، حدیث 589