المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غسان محمد بن مطرف عن أبي حازم باب: ابوغسان محمد بن مطرف کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5773
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «لَمَّا عَرَّسَ، أَبُو سَهْلٍ أُسَيْدٌ السَّاعِدِيُّ، دَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا، وَمَا قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلَّا امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ، وبَلَّتْ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ، أَتَتْهُ بِهِ فَسَقَتْهُ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جب ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو دعوت دی، اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، اور ان کے سامنے کھانا صرف ان کی بیوی ام اسید نے ہی پیش کیا۔ انہوں نے رات ہی میں کچھ کھجوریں پتھر کے ایک برتن میں بھگو دی تھیں، تو جب رسول اللہ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو وہ اسے لے کر آئیں اور آپ ﷺ کو پلایا۔“