المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب عن أبي حازم باب: محمد بن عبدالرحمن بن ابی ذئب کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ دِينَارٍ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَإِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ؟ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَأَخْبَرَ عَاصِمٌ عُوَيْمِرًا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَقَدْ أُنْزِلَ فِيكُمَا الْقُرْآنُ» ، فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَنَا أَمْسَكْتُهَا، فَفَارَقَهَا، وَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا، فَسُنَّتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا» ، فَجَاءَتْ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ…عاصم نے عویمر کو بتایا، تو عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں گا۔ چنانچہ وہ آئے، اور قرآن نازل ہو چکا تھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔“ چنانچہ دونوں آگے آئے اور لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا: اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ اس نے اسے جدا کر دیا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، تو یہی لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو، اگر وہ سرخی مائل، پستہ قد بچہ جنے، چھپکلی کی طرح، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس نے اس پر جھوٹ باندھا، اور اگر وہ سیاہ رنگ، سرمگیں آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنے، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس نے اس کے بارے میں سچ کہا۔“ چنانچہ اس نے اسی ناپسندیدہ صورت میں بچہ جنا۔