المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن أنس عن أبي حازم باب: امام مالک بن انس کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ، فَأُقِيمُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟» ، فَقَالَ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيقِ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتَفَتَ إِلَيْهِ، وإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کے پاس ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اور نماز کا وقت آ گیا۔ مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، تاکہ میں نماز کھڑی کروں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے جبکہ لوگ نماز میں تھے، آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہو گئے، تو لوگوں نے تالی بجائی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں متوجہ نہیں ہوتے تھے، جب لوگوں نے بکثرت تالی بجانا شروع کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر ثابت رہو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ عزوجل کی حمد بیان کی، اس بات پر جس کا رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ صف میں برابر ہو گئے، اور نبی کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تمہیں ثابت قدم رہنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ میں نے تم لوگوں کو بہت زیادہ تالی بجاتے دیکھا؟ جسے اپنی نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو (امام) اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا، تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔“