المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن عجلان عن أبي حازم باب: محمد بن عجلان کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبُورَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتُصْرِخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُمْ يُصْلِحُهُ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَانْتَظَرُوا، فَلَمَّا أَبْطَأَ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَّقَ الْقَوْمُ لِأَبِي بَكْرٍ لِيَتَأَخَّرَ، فَتَأَخَّرَ أَبُو بَكْرٍ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ التَّصْفِيقِ، إِنَّمَا التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو بنو عمرو بن عوف کے کسی معاملے کی خبر دے کر بلایا گیا جس میں آپ ﷺ ان کے درمیان صلح کرانا چاہتے تھے۔ نماز کھڑی کی گئی، تو لوگوں نے انتظار کیا، جب آپ ﷺ کو دیر ہو گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے تالی بجائی تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تالی بجانے کا کیا معاملہ ہے؟ سبحان اللہ کہنا تو مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے۔“