المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند سعد بن معاذ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا، فَنَزَلَ عَلَى أَبِي صَفْوَانَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ، فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ: انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتَ فَطُفْتَ، وَبَيْنَا سَعْدٌ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا، أَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا؟ فَقَالَ سَعْدٌ: أَنَا سَعْدٌ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: تَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا، وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ؟ فَكَانَ بَيْنَهُمَا، حَتَّى قَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ: لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ، فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: وَاللهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ، لَأَقْطَعَنَّ عَلَيْكَ مَتْجَرَكَ إِلَى الشَّامِ، فَجَعَلَ أُمَيَّةُ يَقُولُ لِسَعْدٍ: لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ يُمْسِكُهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ وَقَالَ: دَعْنَا مِنْكَ، «فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ» ، قَالَ: إِيَّايَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ. فَلَمَّا خَرَجُوا، رَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ أَخِي الْيَثْرِبِيُّ، فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ امْرَأَةُ أُمَيَّةَ: مَا يَدَعُنَا مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا جَاءَ الصَّرِيخُ، وَخَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ، قَالَتْ لَهُ: أَمَا تَذْكُرُ مَا قَالَ لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ، فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ أَهْلِ الْوَادِي، فَسِرْ مَعَنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللهُسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو ابوصفوان امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے۔ امیہ کا معمول تھا کہ جب وہ شام کی طرف جاتا اور مدینہ سے گزرتا تو سعد کے پاس ٹھہرتا۔ امیہ نے سعد سے کہا: انتظار کرو یہاں تک کہ جب دن کا وسط ہو اور لوگ غافل ہو جائیں تو جا کر طواف کر لینا۔ چنانچہ سعد امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ ابوجہل ان کے پاس آیا اور کہا: یہ کون شخص ہے جو امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟ سعد نے کہا: میں سعد ہوں۔ ابوجہل نے کہا: تم امن کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کرتے ہو، حالانکہ تم نے محمد اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے؟ ان دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، یہاں تک کہ امیہ نے سعد سے کہا: ابوالحکم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو، وہ اس وادی کا سردار ہے۔ سعد نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا تو میں شام کی طرف تمہاری تجارت ضرور روک دوں گا۔ امیہ سعد کو روکتے ہوئے ان سے کہتا رہا: ابوالحکم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا: ہمیں چھوڑو، میں نے محمد ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ تمہیں قتل کرنے والے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! محمد جھوٹ نہیں بولتے۔ جب وہ لوگ نکلے تو امیہ اپنی بیوی کے پاس واپس گیا اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میرے یثربی بھائی نے کیا کہا؟ پھر اسے یہ بات بتائی۔ امیہ کی بیوی نے کہا: محمد ہمیں چھوڑے گا نہیں۔ جب بدر کے لیے پکار بلند ہوئی اور لوگ بدر کی طرف نکلے تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: کیا تمہیں یاد نہیں کہ تمہارے یثربی بھائی نے تم سے کیا کہا تھا؟ چنانچہ اس نے نہ جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن ابوجہل نے کہا: تم اس وادی کے شرفاء میں سے ہو، ہمارے ساتھ ایک دو دن چلو۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ چل پڑا، تو اللہ نے اسے ہلاک کر دیا۔