المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرش کے ہلنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، تَلَقَّاهُ غِلْمَانُ الْأَنْصَارِ يُخْبِرُونَهُ عَنْ أَهْلِيهِمْ، فَقِيلَ لِأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ: مَاتَتِ امْرَأَتُكَ، فَبَكَى، وَكُنْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَبْكِي وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ لَكَ مِنَ السَّوَابِقِ مَا تَقَدَّمَ، قَالَ: فَيَحِقُّ لِي أَنْ لَا أَبْكِي، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اهْتَزَّتْ أَعْوَادُ الْعَرْشِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ذوالحلیفہ پہنچتے تو انصار کے لڑکے آپ ﷺ کا استقبال کرتے اور آپ ﷺ کو ان کے گھر والوں کی خبر دیتے۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: تمہاری بیوی فوت ہو گئی ہے، تو وہ رونے لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان کے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان تھی، تو میں نے کہا: کیا آپ روتے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہیں، اور آپ کو جو سبقتیں حاصل ہیں سو حاصل ہیں؟ انہوں نے کہا: تو مجھے یہ حق پہنچتا ہے کہ میں نہ روؤں، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش کی چوبیں تک ہل گئیں۔“