حدیث نمبر: 5280
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا شُعَيْثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُبَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ عَمَّارِ بْنِ شُعَيْثِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زُبَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَمَّارٌ، حَدَّثَنِي جَدِّي شُعَيْثٌ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زُبَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةِ الْعَنْبَرِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ زُبَيْبَ بْنَ ثَعْلَبَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ صَحَابَتَهُ، فَأَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ، وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَرَكِبَ زُبَيْبٌ نَاقَةً لَهُ ثُمَّ اسْتَقْدَمَ الْقَوْمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ صَحَابَتَكَ أَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ، وَقَدْ أَسْلَمُوا قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ يَا زُبَيْبُ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَشَهِدَ سَمُرَةُ بْنُ عَمْرٍو وَحَلَفَ زُبَيْبٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا عَلَى بَنِي الْعَنْبَرِ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ» فَرَدَّ عَلَيْهِمْ غَيْرَ زِرْبِيَّةِ أُمِّي - قَالَ سَعْدٌ: وَالزِّرْبِيَّةُ الْقَطِيفَةُ - فَأَتَى زُبَيْبٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَدْ رُدَّ عَلَى بَنِي الْعَنْبَرِ كُلُّ شَيْءٍ لَهُمْ غَيْرَ زِرْبِيَّةِ أُمِّي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْرِفُ مَنْ أَخَذَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِذَا حَضَرَ النَّاسُ الصَّلَاةَ فَاجْلِسْ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا بَصُرْتَ بِصَاحِبِكَ فَالْزَمْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنَ الصَّلَاةِ فَتُنَصَّفُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ» فَفَعَلَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «يَا زُبَيْبُ يَا أَخِي بَنِي الْعَنْبَرِ مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ؟» وأَجْهَشَ زُبَيْبٌ بَاكِيًا وَخُلِّيَ عَنِ الرَّجُلِ، فَقَالَ: خَيْرًا نُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: «أَمَعَكَ زِرْبِيَّةُ أُمِّ زُبَيْبٍ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْلَعْ لَهُ سَيْفَكَ وَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ» فَفَعَلَ وَدَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زُبَيْبٍ، فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى أَجْرَاهَا عَلَى صِرَّتِهِ، قَالَ زُبَيْبٌ: حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ كَفِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صِرَّتِي، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ ارْزُقْهُ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ» ثُمَّ انْصَرَفَ زُبَيْبٌ بِالسَّيْفِ، فَبَاعَهُ بِبَكَرَتَيْنِ مِنْ صَدَقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَالَدَتَا عِنْدَ زُبَيْبٍ حَتَّى بَلَغَتَا مِائَةً وَنِيِّفًا
ترجمہ

سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کے ساتھیوں نے بنو عنبر کے قیدی پکڑ لیے ہیں، حالانکہ وہ مخضرم ہیں اور مسلمان ہو چکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے زبیب! کیا تمہارے پاس اس کا کوئی گواہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ سمرہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے گواہی دی اور زبیب رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنو عنبر کی ہر چیز انہیں واپس کر دو۔“ چنانچہ ان کی ہر چیز واپس کر دی گئی سوائے میری ماں کے قالین کے — سعد کہتے ہیں: زربیہ سے مراد قطیفہ، یعنی موٹا قالین ہے۔

پھر زبیب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بنو عنبر کی ہر چیز واپس کر دی گئی سوائے میری ماں کے قالین کے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس نے لی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب لوگ نماز کے لیے حاضر ہوں تو تم مسجد کے دروازے پر بیٹھ جانا، جب اپنے ساتھی کو دیکھو تو اسے پکڑے رہنا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو، پھر میں تمہارے اور اس کے درمیان انصاف کروں گا۔“ چنانچہ زبیب رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔

جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے زبیب، اے بنو عنبر کے بھائی! تم اپنے اس قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟“ زبیب رضی اللہ عنہ رونے لگے اور اس آدمی کو چھوڑ دیا گیا، انہوں نے عرض کیا: میں خیر ہی چاہتا ہوں، اللہ اور اس کے رسول کی رضا کا طلبگار ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: ”کیا زبیب کی ماں کا قالین تمہارے پاس ہے؟“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنی تلوار اسے اتار کر دے دو اور اس کے ساتھ کچھ صاع غلہ بھی زیادہ دے دو۔“ چنانچہ اس نے ایسا کر دیا۔

پھر رسول اللہ ﷺ زبیب رضی اللہ عنہ کے قریب ہوئے اور اپنا ہاتھ ان کے سر پر پھیرتے ہوئے ان کی ناف تک لے گئے۔ زبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کی ہتھیلی کی ٹھنڈک اپنی ناف پر محسوس کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے عفو اور عافیت عطا فرما۔“

پھر زبیب رضی اللہ عنہ وہ تلوار لے کر واپس گئے اور اسے نبی کریم ﷺ کے صدقے کی دو اونٹنیوں کے بدلے بیچ دیا۔ وہ دونوں اونٹنیاں زبیب رضی اللہ عنہ کے پاس بچے دیتی رہیں یہاں تک کہ ان کی تعداد سو سے زائد ہو گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5280
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 267، حدیث 5299