حدیث نمبر: 5239
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْبَعِيرِ؟ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: «مَعَهُ حِذَاؤُهُ وسِقَاؤُهُ، يَرِدُ الْمَاءَ وَيَرْعَى الشَّجَرَ»
وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاعْرِفْ وِكَاءَهَا أَوْ عِفَاصَهَا، ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي مَالِكَ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتُهَا إِلَيْهِ»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے بھٹکی ہوئی بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
پھر بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ کو غصہ آ گیا اور آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا پاؤں اور مشکیزہ ہے، وہ پانی پر جاتا اور درخت چرتا ہے۔“
پھر لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ اس کی باندھنے کی ڈوری یا تھیلا پہچان لو، پھر اسے اپنے مال میں شامل کر لو، اگر بعد میں اس کا مالک آ جائے تو اسے وہ چیز دے دی جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5239
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 253، حدیث 5258