حدیث نمبر: 5237
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ وَتُشْرَبُ مِنَ الْمَاءِ، حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا»
قَالَ: فَضَالَةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
قَالَ: فَاللُّقَطَةُ؟ قَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ کو غصہ آ گیا اور آپ ﷺ کے رخسار سرخ ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا پاؤں اور مشکیزہ ہے، وہ درخت کھاتا اور پانی پیتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“
اس نے کہا: بھٹکی ہوئی بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
اس نے کہا: لقطہ کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا تھیلا اور باندھنے کی ڈوری پہچان لو، پھر اس کا اعلان کرو، اگر پہچانی نہ جائے تو اسے اپنے مال میں شامل کر لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5237
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 253، حدیث 5256