المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم أبو النضر، عن خارجة بن زيد باب: سالم ابوالنضر کی خارجہ بن زید سے روایات
حدیث نمبر: 4860
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: طِبْ أَبَا السَّائِبِ نَفْسًا إِنَّكَ فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» فَقَالَتْ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللهُ، فَقَالَ: «وَمَا يُدْرِيكَ؟» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَ: «أَجَلْ مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا، أَنَا رَسُولُ اللهِ وَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي»ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا تو ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوسائب! خوش ہو جاؤ، تم جنت میں ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن لیا تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں ہوں، اے اللہ کے نبی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ عثمان بن مظعون تو ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہم نے ان میں خیر ہی دیکھی، لیکن میں تو اللہ کا رسول ہوں، اللہ کی قسم! مجھے بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“