المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أنس بن مالك، عن أبي طلحة باب: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4688
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْقَيْسِيُّ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ قُلْتُ إِنَّ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتِهِ، فَسَكَتَ عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ، وَذَهَبَ ذُو الضَّرْعِ إِلَى ضَرْعِهِ وَذُو الزَّرْعِ إِلَى زَرْعِهِ أَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: " إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} [الصافات: ١٧٧] "ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا، اگر میں کہوں کہ میرا گھٹنا آپ ﷺ کے گھٹنے سے چھو رہا تھا تو غلط نہ ہوگا۔ آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ سحری کا وقت ہوا اور دودھ والے اپنے جانوروں کی طرف اور کھیتی والے اپنی کھیتیوں کی طرف چلے گئے، تو آپ ﷺ نے ان پر یکایک حملہ کیا اور فرمایا: ”بے شک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر آئیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے“ [سورۃ الصافات: 177]۔