المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري " من بني عمرو بن عوف، ثم من بني أمية بن زيد ويقال بشر بن عبد المنذر، ويقال بشير بن عبد المنذر " باب: سیدنا رفاعہ بن عبدالمنذر ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو عمرو بن عوف سے، پھر بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھتے تھے، انہیں بشر بن عبدالمنذر اور بشیر بن عبدالمنذر بھی کہا گیا ہے)
حدیث نمبر: 4494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا تَابَ اللهُ عَلَى أَبِي لُبَابَةَ قَالَ أَبُو لُبَابَةَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَهْجُرُ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ بِهَا الذَّنْبَ، وأَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا لُبَابَةَ، يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثَ» قَالَ: فَتَصَدَّقْتُ بِالثُّلُثِترجمہ
حسین بن سائب بن ابی لبابہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب اللہ نے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول فرمائی تو سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے اس گھر کو چھوڑ دوں گا جہاں مجھ سے یہ گناہ سرزد ہوا، اور اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر کے اس سے الگ ہو جاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابولبابہ! تمہارے لیے تہائی مال کافی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے تہائی مال صدقہ کر دیا۔