المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رافع بن عمير باب: سیدنا رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ، فبَنَى دَاوُدُ بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ، فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتِكَ قَبْلَ بَيْتِي، قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قُلْتَ فِيمَا قَضَيْتَ: مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا تَمَّ السُّوَرُ سَقَطَ ثُلُثَاهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَلِمَ؟ قَالَ: لِمَا جَرَتْ عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ أَوَ لَمْ يَكُنْ فِي هَوَاكِ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِّ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ، فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخَذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ، فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سُرُورًا بِبُنْيانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ، قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا اثْنَتَيْنِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ»سیدنا رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: اللہ عزوجل نے داود علیہ السلام سے فرمایا: میرے لیے زمین پر ایک گھر تعمیر کرو۔ تو داود علیہ السلام نے اس گھر سے پہلے، جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا، اپنے لیے ایک گھر بنا لیا، تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے داود! تم نے میرے گھر سے پہلے اپنا گھر کھڑا کر لیا؟ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! تو نے اپنے فیصلے میں یوں ہی فرمایا ہے کہ جو مالک ہو وہ خود کو ترجیح دیتا ہے۔ پھر انہوں نے مسجد کی تعمیر شروع کی، تو جب دیوار مکمل ہوئی تو اس کا دو تہائی حصہ گر گیا، تو انہوں نے اس کی شکایت اللہ عزوجل سے کی، تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ تم میرے لیے گھر تعمیر کرو۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! کیوں؟ فرمایا: اس خون کی وجہ سے جو تمہارے ہاتھوں بہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! کیا یہ تیری رضا اور محبت میں نہیں بہا؟ فرمایا: کیوں نہیں، لیکن وہ میرے بندے ہیں اور میں ان پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ تو یہ بات ان پر گراں گزری، تو اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: غم نہ کرو، میں اس کی تعمیر تمہارے بیٹے سلیمان کے ہاتھوں مکمل کراؤں گا۔ پھر جب داود کا انتقال ہوا تو سلیمان نے اس کی تعمیر شروع کی، جب وہ مکمل ہو گئی تو انہوں نے قربانیاں پیش کیں اور ذبیحے ذبح کیے اور بنی اسرائیل کو جمع کیا، تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: میں اپنے گھر کی تعمیر پر خوشی دیکھ رہا ہوں، تو مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔ انہوں نے عرض کیا: میں تجھ سے تین چیزیں مانگتا ہوں: ایسا حکم جو تیرے حکم کے موافق ہو، اور ایسی بادشاہت جو میرے بعد کسی کو سزاوار نہ ہو، اور جو شخص اس گھر میں آئے اور اس میں صرف نماز پڑھنے کا ارادہ رکھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر نکلے جیسے اس دن جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو باتیں تو اسے عطا کر دی گئی ہیں، اور مجھے امید ہے کہ اسے تیسری بھی عطا کر دی گئی ہوگی۔“