المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن رافع بن خديج، عن أبيه باب: عبدالرحمن بن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَرْمَطِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ هُرَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ لَمْ يَكُنْ حِصْنٌ أُحْصِنَ مِنْ حِصْنِ بَنِي حَارِثٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالذَّرَارِيَّ فِيهِ فَقَالَ: «إِنْ أَلَمَّ بِكُنَّ أَحَدٌ فَأَلْمِعْنَ بِالسَّيْفِ» ، فَجَاءَهُنَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ سَعْدٍ يُقَالُ لَهُ بُجْدَانُ أَحَدُ بَنِي جَحَّاشٍ عَلَى فَرَسٍ حَتَّى كَانَ فِي أَصْلِ الْحِصْنِ ثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ لِلنِّسَاءِ: انْزِلَنْ إِلَيَّ خَيْرٌ لَكُنَّ، فَحَرَّكْنَ السَّيْفَ فَأَبْصَرَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَرَ الْحِصْنَ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهُ ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ، فَقَالَ: يَا بُجْدَانُ أَبْرِزْ فَبَرَزَ إِلَيْهِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَرَسُهُ فَقَتَلَهُ وَأَخَذَ رَأْسَهُ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن غزوہ خندق ہوئی تو بنی حارث کے قلعے سے زیادہ کوئی قلعہ محفوظ نہ تھا، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں، بچوں اور کمسن افراد کو اسی میں رکھا اور فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی (دشمن) آئے تو تلوار لہرا دینا۔“ اتنے میں بنی ثعلبہ بن سعد کا ایک شخص، جسے بجدان کہا جاتا تھا اور جو بنی جحاش سے تھا، گھوڑے پر سوار آیا، یہاں تک کہ وہ قلعے کی بنیاد تک پہنچ گیا، پھر عورتوں سے کہنے لگا: میرے پاس اتر آؤ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ تو عورتوں نے تلوار ہلائی، نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے اسے دیکھ لیا، تو کچھ لوگ قلعے کی طرف دوڑے، ان میں بنی حارثہ کا ایک شخص بھی تھا جسے ظہیر بن رافع کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا: اے بجدان! نکل کر مقابلہ کر۔ وہ اس کے مقابلے میں نکلا، تو ظہیر کے گھوڑے نے اس پر حملہ کیا اور اس نے اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹ لیا اور اسے لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس گیا۔