المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الخرباق باب: سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 4167
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ، وَكَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ: «أَصْدَقَ» ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین رکعتوں میں سلام پھیر دیا، پھر اندر داخل ہو گئے، تو ایک شخص جسے خرباق کہا جاتا تھا اور جس کے ہاتھ لمبے تھے، کھڑا ہوا اور عرض کیا: کیا نماز کم کر دی گئی ہے، یا رسول اللہ؟ تو آپ ﷺ غصے میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ کھڑے ہوئے اور وہ (رہ جانے والی) رکعت پڑھی۔