المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي أيوب باب: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: كُنْتُ مُؤْذًى بِسَامِرِ الْبَيْتِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَتْ رَوْزَنَةٌ فِي بَيْتٍ لَنَا، فَقَالَ: " ارْصُدْهُ فَإِذَا أَنْتَ عَايَنْتَ شَيْئًا، فَقُلْ: اخْسَ يَدْعُوكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ: فَرَصَدْتُ فَإِذَا شَيْءٌ قَدْ تَدَلَّى مِنْ رَوْزَنَةٍ، فَوَثَبْتُ إِلَيْهِ، وَقُلْتُ: اخْسَ يَدْعُوكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْهُ فَتَضَرَّعَ إِلَيَّ وَقَالَ لِي لَا أَعُودُ، قَالَ: فَأَرْسَلْتُهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَعُودُ» قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ آخُذُهُ وَأُخْبِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي كَانَ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِمُفَارِقِي حَتَّى آتِيَ بِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَاشَدَنِي وَتَضَرَّعَ إِلَيَّ وَقَالَ: أُعَلِّمُكَ شَيْئًا إِذَا قُلْتُهُ مِنْ لَيْلَتِكَ لَمْ يَقْرَبْكَ جَانٌّ وَلَا لِصٌّ، قَالَ: تَقْرَأُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ، قَالَ: فَأَرْسَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نَاشَدَنِي وَتَضَرَّعَ إِلَيَّ حَتَّى رَحِمْتُهُ وَعَلَّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا قُلْتُهُ لَمْ يَقْرَبْنِي جِنٌّ وَلَا لِصٌّ قَالَ: «صَدَقَ وَإِنْ كَانَ كَذُوبًا»سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے گھر میں رات کو آنے والی ایک چیز سے تکلیف پہنچتی تھی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ہمارے ایک کمرے میں ایک روشندان تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی گھات میں رہو، جب تم کوئی چیز دیکھو تو کہو: دور ہو، رسول اللہ ﷺ تجھے بلاتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں: میں گھات میں رہا تو اچانک ایک چیز روشندان سے لٹکی، میں اس پر جھپٹا اور کہا: دور ہو، رسول اللہ ﷺ تجھے بلاتے ہیں۔ اور میں نے اسے پکڑ لیا تو وہ میرے سامنے گڑگڑایا اور مجھ سے کہا: میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے آپ کو جو کچھ ہوا بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، وہ ضرور دوبارہ آئے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ تین بار کیا، ہر بار میں اسے پکڑتا اور نبی کریم ﷺ کو بتاتا جو کچھ ہوا، جب تیسری بار ہوئی تو میں نے اسے پکڑا اور کہا: تم مجھ سے الگ نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤں، تو اس نے مجھے قسم دی اور میرے سامنے گڑگڑایا اور کہا: میں تمہیں کچھ ایسا سکھاتا ہوں کہ جب تم اسے رات کو کہو تو نہ کوئی جن تمہارے قریب آئے اور نہ کوئی چور۔ راوی کہتے ہیں: وہ کہنے لگا: تم آیت الکرسی پڑھو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے مجھے قسم دی اور میرے سامنے گڑگڑایا یہاں تک کہ مجھے اس پر رحم آ گیا، اور اس نے مجھے کچھ ایسا سکھایا کہ جب میں اسے کہوں تو نہ کوئی جن میرے قریب آئے اور نہ کوئی چور۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، اگرچہ وہ بہت جھوٹا ہے۔“