المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو رهم السماعي، عن أبي أيوب الأنصاري باب: ابورہم سماعی کی سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أَبِي، ثنا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامَةَ، يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا رُهْمٍ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ يَتَلَقَّى أَهْلُ الرَّحْمَةِ مِنْ عَبَّادِ اللهِ كَمَا يَتَلَقَّوْنَ الْبَشِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا صَاحِبَكُمْ يَسْتَرِيحُ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ، ثُمَّ يَسْأَلُونَهُ مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ؟ هَلْ تَزَوَّجَتْ؟ فَإِذَا سَأَلُوهُ عَنْ أَحَدٍ قَدْ مَاتَ قَبْلَهُ قَالَ: هَيْهَاتَ قَدْ مَاتَ ذَاكَ قَبْلِي، فَيَقُولُونَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، ذَهَبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِّيَةُ "سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی روح جب فوت ہوتی ہے تو اللہ کے رحمت والے بندے اس کا استقبال اسی طرح کرتے ہیں جیسے دنیا میں خوشخبری لانے والے کا استقبال کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: اپنے ساتھی کو دیکھو، وہ آرام پا رہا ہے، وہ سخت تکلیف میں تھا۔ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: فلاں نے کیا کیا؟ فلانی نے کیا کیا؟ کیا اس کی شادی ہو گئی؟ اگر وہ اس شخص کے بارے میں پوچھیں جو اس سے پہلے مر چکا ہو تو وہ کہتا ہے: افسوس! وہ تو مجھ سے پہلے مر گیا تھا۔ تو وہ کہتے ہیں: انا للہ وانا الیہ راجعون، اسے اس کی ماں ہاویہ کی طرف لے جایا گیا، تو بری ہے وہ ماں اور بری ہے وہ پرورش کرنے والی۔“