❮
❯
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيُّ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي بَيْتِهِ الْأَسْفَلِ، وَكُنْتُ فِي الْغُرْفَةِ فَأُهْرِيقَ مَاءٌ فِي الْغُرْفَةِ، فَقُمْتُ أَنَا وَأُمُّ أَيُّوبَ بِقَطِيفَةٍ لَنَا نَتَّبِعُ الْمَاءَ شَفَقَةً أَنْ يَخْلُصَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مُشْفِقٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ نَكُونَ فَوْقَكَ، انْتَقِلْ إِلَى الْغُرْفَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَتَاعِهِ فَنُقِلَ، وَمَتَاعُهُ قَلِيلٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كُنْتُ تُرْسِلُ إِلَيْنَا بِالطَّعَامِ فَأُبْصِرُ فِيهِ، فَإِذَا رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِكَ وَضَعْتُ يَدَيَّ فِيهِ، حَتَّى كَانَ هَذَا الطَّعَامُ الَّذِي أَرْسَلْتَ بِهِ إِلَيَّ، فَنَظَرْتُ فِيهِ فَلَمْ أَرَ أَثَرَ أَصَابِعِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ إِنَّ فِيهِ بَصَلًا، وَكَرِهْتُ أَنْ آكُلَهُ مِنْ أَجْلِ الْمَلَكِ الَّذِي يَأْتِينِي، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكُلُوهُ»
ترجمہ

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے گھر کے نچلے حصے میں ٹھہرے، اور میں بالاخانے میں تھا، بالاخانے میں پانی گر گیا تو میں اور سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا اپنی ایک مخملی چادر لے کر اٹھے اور پانی کو (خشک کرنے کے لیے) اس کے پیچھے لگے رہے، اس ڈر سے کہ کہیں وہ رسول اللہ ﷺ تک نہ پہنچ جائے۔ پھر میں ڈرتے ڈرتے رسول اللہ ﷺ کے پاس نیچے آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مناسب نہیں کہ ہم آپ کے اوپر رہیں، آپ بالاخانے میں منتقل ہو جائیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے سامان کے بارے میں حکم دیا تو وہ منتقل کر دیا گیا، اور آپ کا سامان تھوڑا سا تھا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہماری طرف کھانا بھیجا کرتے تھے تو میں اس میں دیکھتا، جب بھی میں آپ کی انگلیوں کا نشان دیکھتا تو اپنے ہاتھ وہاں رکھتا، یہاں تک کہ یہ کھانا آیا جو آپ نے میری طرف بھیجا تھا، میں نے اس میں دیکھا تو آپ کی انگلیوں کا کوئی نشان نہ پایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس میں پیاز ہے، اور میں نے اس فرشتے کی وجہ سے اسے کھانا ناپسند کیا جو میرے پاس آتا ہے، لیکن تم اسے کھا لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3863
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 126، حدیث 3878