❮
❯
حدیث نمبر: 3709
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذُكِرَتِ الِاسْتِطَابَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهِنَّ رَجِيعٌ؟» . قَالَ هِشَامٌ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو وَجْزَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ أَبُو خُزَيْمَةَ قَالَ: «لَا إِنَّمَا هُوَ أَبُو وَجْزَةَ الشَّاعِرُ»
ترجمہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے استنجاء کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کو تین پتھر، جن میں گندگی نہ ہو، کافی نہیں ہیں؟“ ہشام کہتے ہیں: اور مجھے ابو وجزہ نے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے (بھی) یہ روایت بیان کی۔ سفیان سے کہا گیا: لوگ (اس راوی کو) ابو خزیمہ کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: نہیں، وہ تو ابو وجزہ شاعر ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3709
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 86، حدیث 3724