حدیث نمبر: 3694
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُنِيرُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ نَسِيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْعَثًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنِي بَعِيدًا وَأَنَا أُشْفِقُ عَلَيْكَ، قَالَ: «وَمَا بَلَغَ مِنْ شَفَقَتِكَ عَلَيَّ؟» ، قُلْتُ: أُصْبِحُ فَلَا أَظُنُّكَ تُمْسِي، وَأُمْسِي فَلَا أَظُنُّكَ تُصْبِحُ، قَالَ: «يَا خَبَّابُ خَمْسٌ إِنْ فَعَلْتَ بِهِنَّ رَأَيْتَنِي، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ بِهِنَّ لَمْ تَرَنِي» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ» ، قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ؟، قَالَ: «تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّ خَطِيئَتَهَا تَقْرَعُ الْخَطَايَا، كَمَا أَنَّ شَجَرَتَهَا تَعْلُقُ الشَّجَرَ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا، وتَعْتَصِمْ بِحَبْلِ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ يَدَ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، يَا خَبَّابُ إِنَّكَ إِنْ رَأَيْتَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ تُفَارِقْنِي»
ترجمہ

سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مہم پر بھیجا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے دور بھیج رہے ہیں اور مجھے آپ کی فکر لاحق ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری میری فکر کہاں تک پہنچی ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں صبح کرتا ہوں تو نہیں سمجھتا کہ آپ شام تک رہیں گے، اور میں شام کرتا ہوں تو نہیں سمجھتا کہ آپ صبح تک رہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خباب! پانچ باتیں ہیں، اگر تم انہیں کر لو تو مجھے دیکھو گے، اور اگر انہیں نہ کرو تو مجھے نہیں دیکھو گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ خواہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے، اور تقدیر پر ایمان رکھو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تقدیر پر ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تمہیں نہ پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہ تھا، اور شراب نہ پیو کیونکہ اس کا گناہ باقی گناہوں کو کچل دیتا ہے جیسے اس کی بیل دوسرے درختوں سے لپٹ جاتی ہے، اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو خواہ وہ تمہیں دنیا چھوڑنے کا حکم دیں، اور جماعت کی رسی مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ اے خباب! اگر تم نے قیامت کے دن مجھے دیکھ لیا تو پھر مجھ سے جدا نہیں ہو گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3694
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 81، حدیث 3709