المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حممة الدوسي استشهد بأصبهان مع أبي موسى الأشعري رضي الله عنهما، وقبره معروف على باب مدينة أصبهان وقد رأيته أنا باب: سیدنا حممہ دوسی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ اصفہان میں شہید ہوئے، ان کی قبر اصفہان شہر کے دروازے پر معروف ہے، اور میں (طبرانی) نے خود اسے دیکھا ہے
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ حُمَمَةُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ غَازِيًا إِلَى أَصْبَهَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفُتِحَتْ أَصْبَهَانُ فَقَالَ حُمَمَةُ: «اللهُمَّ إِنَّ حُمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاكَ، فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ عَلَيْهِ بِصَدَقَةٍ، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَاعْزِمْ لَهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَرِهَ» فَأَخَذَهُ الْبَطْنُ فَمَاتَ بأَصْبَهَانَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا وَاللهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَلَغَ عِلْمُنَا إِلَّا وَأَنَّ حُمَمَةَ شَهِيدٌراوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص جسے حممہ کہا جاتا تھا، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اصبہان کی طرف جہاد کے لیے نکلے، اور اصبہان فتح ہو گیا، تو حممہ نے کہا: اے اللہ! حممہ کا دعویٰ ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے، اگر وہ سچا ہے تو اسے شہادت کے ذریعے یہ عطا فرما، اور اگر وہ جھوٹا ہے تو پھر بھی اسے یہ عطا فرما خواہ وہ ناپسند ہی کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہیں پیٹ کی بیماری نے آ لیا اور وہ اصبہان میں فوت ہو گئے، تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ کی قسم، ہم نے اپنے نبی ﷺ سے جو کچھ سنا اور ہمارے علم کی حد تک، حممہ شہید ہیں۔