❮
❯
حدیث نمبر: 3585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ: بَاتَ يَجُرُّ الْجَرِيرَ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ فَانْقَلَبَ بِأَحَدِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ يَنْتَفِعُونَ بِهِ وَجَاءَ بِالْآخَرِ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْثُرْهُ فِي الصَّدَقَةِ» ، فَقَالَ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ وسَخِرُوا مِنْهُ: مَا كَانَ أَغْنَى هَذَا أَنْ يَتَقَرَّبَ إِلَى اللهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ} [التوبة: ٧٩] إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ
ترجمہ

ابن ابی عقیل رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رات بھر رسی کھینچ کر مزدوری کرتے ہوئے دو صاع کھجوریں کماتے رہے، تو ان میں سے ایک صاع اپنے گھر والوں کے پاس لے گئے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں، اور دوسرا صاع لے کر اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنے کے لیے نکلے، تو اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اسے صدقے میں بکھیر دو۔“ اس پر منافقین نے اس کا مذاق اڑایا اور کہا: اس شخص کو کیا ضرورت تھی کہ صرف ایک صاع کھجور سے اللہ کا قرب حاصل کرے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”جو لوگ ایمان والوں میں سے دل کھول کر صدقہ دینے والوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور جنہیں اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں ملتا“ [سورۃ التوبہ: 79] دونوں آیتوں کے آخر تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3585
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 45، حدیث 3598