المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حبيب بن مسلمة الفهري وهو حبيب بن مسلمة بن مالك بن وهب بن عمرو بن شيبان بن محارب بن فهر بن مالك وأمه فهرية، يكنى أبا عبد الرحمن وكان يدعى حبيب الروم لمجاهدته الروم باب: سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ، اور وہ حبیب بن مسلمہ بن مالک بن وہب بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک ہیں، ان کی والدہ فہریہ تھیں، کنیت ابوعبدالرحمن، رومیوں کے خلاف جہاد کی وجہ سے انہیں حبیب الروم کہا جاتا تھا
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ وَكَانَ مُسْتَجَابًا أَنَّهُ أُمِّرَ عَلَى جَيْشٍ فَدَرَّبَ الدُّرُوبَ، فَلَمَّا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَالَ لِلنَّاسِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَجْتَمِعُ مَلَأٌ فَيَدْعُو بَعْضُهُمْ وَيُؤَمِّنُ سَائِرُهُمْ إِلَّا أَجَابَهُمُ اللهُ» ، ثُمَّ إِنَّهُ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ: اللهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا وَاجْعَلْ أُجُورَنَا أُجُورَ الشُّهَدَاءِ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ نَزَلَ الْهِنْبَاطُ أَمِيرُ الْعَدُوِّ فَدَخَلَ عَلَى حَبِيبٍ سُرَادِقَهُ. قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «الْهِنْبَاطُ بِالرُّومِيَّةِ صَاحِبُ الْجَيْشِ»سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے، اور ان کی دعا قبول ہوا کرتی تھی، کہ انہیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا تو انہوں نے درّوں کو عبور کیا، جب دشمن کا سامنا ہوا تو انہوں نے لوگوں سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”کوئی جماعت جمع نہیں ہوتی کہ ان میں سے کچھ دعا کریں اور باقی آمین کہیں مگر اللہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے۔“ پھر انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: اے اللہ! ہمارے خون محفوظ رکھ اور ہمارا اجر شہداء کا اجر بنا دے۔ وہ اسی حال میں تھے کہ دشمن کا سالار ”الہنباط“ اتر کر حبیب کے خیمے میں داخل ہوا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الہنباط“ رومی زبان میں لشکر کے سردار کو کہتے ہیں۔