حدیث نمبر: 3382
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الزَّجَّاجُ، قَالُوا: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ ضِرَارٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ: " قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَدَخَلْتُ فِيهِ وَأَقْرَرْتُ بِهِ، وَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ، فَأَقْرَرْتُ بِهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِي مِنْهُمْ جَمَعْتُ زَكَاتَهُ، فَتُرْسِلُ يَا رَسُولَ اللهِ رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا يَأْتِيكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّكَاةِ. فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهُ وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ، احْتَبَسَ عَلَيْهِ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخَطٌ مِنَ اللهِ وَمِنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا سَرَوَاتِ قَوْمِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَقَّتَ لِي وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الزَّكَاةِ، وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُلْفُ، لَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ، فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى الْحَارِثِ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ، فَلَمَّا أَنْ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ، فَرِقَ فَرَجَعَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي. فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ، وأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا اسْتَقْبَلَ الْبَعْثُ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَقِيَهُمُ الْحَارِثُ، قَالُوا: هَذَا الْحَارِثُ، فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ: إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ؟ قَالُوا: إِلَيْكَ. قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَرَجَعَ فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدَتْ قَتْلَهُ. فَقَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ وَلَا أَتَانِي، وَمَا أَقْبَلْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولًا خَشْيَةَ أَنْ يَكُونَ سَخْطَةً مِنَ اللهِ وَمِنْ رَسُولِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ". فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: ٦] إِلَى هَذَا الْمَكَانِ: {فَضْلًا مِنَ اللهِ وَنِعْمَةً وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [الحجرات: ٨]
ترجمہ

سیدنا حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اسلام کی دعوت دی، میں اس میں داخل ہو گیا اور اس کا اقرار کیا، پھر آپ ﷺ نے مجھے زکوٰۃ کی طرف بلایا تو میں نے اس کا بھی اقرار کیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کی طرف واپس جاتا ہوں اور انہیں اسلام اور زکوٰۃ ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں، تو جو میری بات مان لے میں اس کی زکوٰۃ جمع کر لوں گا، پھر یا رسول اللہ! آپ فلاں فلاں وقت پر ایک قاصد بھیج دیں تاکہ اسے وہ زکوٰۃ مل جائے جو میں نے جمع کی ہو۔ راوی کہتے ہیں: جب حارث رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے زکوٰۃ جمع کر لی جنہوں نے ان کی بات مانی تھی، اور وہ وقت آ پہنچا جس میں رسول اللہ ﷺ نے قاصد بھیجنے کا ارادہ کیا تھا، تو قاصد کسی وجہ سے رک گیا اور نہ آیا، حارث رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ شاید اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ان پر کوئی ناراضگی ہو گئی ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے ایک وقت مقرر کیا تھا کہ اس میں اپنا قاصد بھیجیں گے تاکہ وہ زکوٰۃ لے لیں جو میرے پاس ہے، اور رسول اللہ ﷺ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتے، مجھے نہیں لگتا کہ ان کے قاصد کے رکنے کی کوئی وجہ ناراضگی کے سوا کچھ اور ہو، چلو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس چلتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ادھر رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو حارث رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کے پاس جو زکوٰۃ جمع ہو چکی تھی وہ لے آئیں، جب ولید چلا اور راستے کے کسی حصے تک پہنچا تو ڈر گیا اور واپس لوٹ آیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! حارث نے مجھے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور مجھے قتل کرنا چاہا۔ راوی کہتے ہیں: اس پر رسول اللہ ﷺ نے حارث کی طرف ایک دستہ بھیجا، اور ادھر حارث رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب دستہ مدینہ سے نکل کر سامنے آیا تو حارث رضی اللہ عنہ ان سے ملے، لوگوں نے کہا: یہ حارث ہے، جب وہ ان کے قریب پہنچے تو ان سے پوچھا: تمہیں کس کی طرف بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: تمہاری طرف۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو بھیجا تھا، تو وہ واپس آ کر یہ کہنے لگا کہ تم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور اسے قتل کرنا چاہا۔ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، نہ میں نے اسے دیکھا اور نہ وہ میرے پاس آیا، اور میں تو صرف اس لیے آیا کہ مجھ پر زکوٰۃ لینے کا قاصد رک گیا اور مجھے یہ خدشہ ہوا کہ کہیں یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے کوئی ناراضگی نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں: اس پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم انجانے میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے“ [سورۃ الحجرات: 6] یہاں تک: ”یہ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے“ [سورۃ الحجرات: 8]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3382
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 274، حدیث 3395