حدیث نمبر: 3354
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثُ؟» قَالَ: أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا. فَقَالَ: «انْظُرْ مَا تَقُولُ؟ فَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةً، فَمَا حَقِيقَةُ إِيمَانِكَ؟» فَقَالَ: قَدْ عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا، وَأَسْهَرْتُ لِذَلِكَ لِيَلِي، وَاطْمَأَنَّ نَهَارِي، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغَوْنَ فِيهَا. فَقَالَ: «يَا حَارِثُ عَرَفْتَ فَالْزَمْ» ثَلَاثًا
ترجمہ

سیدنا حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے حارث! تم نے کیسی صبح کی؟“ انہوں نے کہا: میں نے سچے مومن کی حیثیت سے صبح کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو کیا کہہ رہے ہو؟ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میرا دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا ہے، اسی وجہ سے میں نے راتوں کو جاگنا اور دنوں کو پرسکون گزارنا اختیار کر لیا ہے، اور گویا میں اپنے رب کے عرش کو ظاہر دیکھ رہا ہوں، اور گویا میں جنتیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی ملاقات کو جا رہے ہیں، اور گویا میں جہنمیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حارث! تم نے پہچان لیا تو اس پر قائم رہو“، تین بار یہی فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3354
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 266، حدیث 3367