حدیث نمبر: 3053
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ كِتَابًا وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ: «انْطَلِقَا حَتَّى تُدْرِكَا امْرَأَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَائْتِيَانِي بِهِ» . فَانْطَلَقَا حَتَّى لَقِيَاهَا، فَقَالَا: أَعْطِينَا الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ، وَأَخْبَرَاهَا أَنَّهُمَا غَيْرُ مُنْصَرِفَيْنِ حَتَّى يَنْزِعَا كُلَّ ثَوْبٍ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَلَسْتُمَا رَجُلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ؟ قَالَا: بَلَى، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ مَعَكِ كِتَابًا. فَلَمَّا أَيْقَنَتْ أَنَّهَا غَيْرُ مُنْفَلِتَةٍ مِنْهُمَا حَلَّتِ الْكِتَابَ مِنْ رَأْسِهَا فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبًا حَتَّى قَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَقَالَ: «أَتَعْرِفُ هَذَا الْكِتَابَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: هُنَاكَ وَلَدِي وَذُو قَرَابَتِي، وَكُنْتُ امْرَأً غَرِيبًا فِيكُمْ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فِي قَتْلِ حَاطِبٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا؛ لَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَإِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنِّي غَافِرٌ لَكُمْ "
ترجمہ

…بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے، جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور بدر میں بھی شریک ہو چکے تھے، کفارِ قریش کو ایک خط لکھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے علی اور زبیر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا: ”جاؤ، تم ایک عورت کو پاؤ گے جس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط لے کر میرے پاس آؤ۔“ چنانچہ وہ دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ اس سے ملے، انہوں نے کہا: جو خط تمہارے پاس ہے وہ ہمیں دے دو، اور اسے بتایا کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک اس پر موجود ہر کپڑا نہ اتار لیں۔ اس نے کہا: کیا تم دونوں مسلمان مرد نہیں ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہارے پاس ایک خط ہے۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ ان سے بچ نہیں سکتی تو اس نے اپنے سر سے خط کھولا اور انہیں دے دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حاطب کو بلایا اور ان کے سامنے خط پڑھا، اور پوچھا: ”کیا تم اس خط کو پہچانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ انہوں نے کہا: میرے بچے اور رشتہ دار وہاں ہیں، اور میں تم قریش میں ایک اجنبی شخص تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، کیونکہ وہ بدر میں شریک ہو چکا ہے، اور تمہیں کیا خبر، شاید اللہ نے اہلِ بدر پر نظرِ کرم فرما کر کہا ہو: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3053
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 184، حدیث 3066