المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
" وآخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين حمزة وبين زيد بن حارثة " باب: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا
حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، قَالَ: «رَأَيْتُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، وَكَأَنَّ ظُبَةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ كَبْشَ الْقَوْمِ، وأَوَّلْتُ ظُبَةَ سَيْفِي قَتْلَ رَجُلٍ مِنْ عِتْرَتِي» . «فَقُتِلَ حَمْزَةُ، وَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلْحَةَ، وَكَانَ صَاحِبَ اللِّوَاءِ»ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا، فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک مینڈھے پر سوار ہوں، اور گویا میری تلوار کی نوک ٹوٹ گئی، تو میں نے تعبیر کی کہ میں قوم کے سردار کو قتل کروں گا، اور تلوار کی نوک کی تعبیر یہ کی کہ میرے خاندان کا ایک آدمی قتل ہوگا۔“ چنانچہ حمزہ شہید کیے گئے، اور رسول اللہ ﷺ نے طلحہ کو قتل کیا، جو کفار کے جھنڈے والا تھا۔