❮
❯
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، فَأَدَرَبْنَا - يَعْنِي دَرْبَ الرُّومِ - ثُمَّ مَرَرْنَا بِحِمْصَ وَبِهَا وَحْشِيٌّ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ قَتْلِهِ حَمْزَةَ رَحِمَهُ اللهُ كَيْفَ قَتَلَهُ؟ فَأَقْبَلْنَا نَحْوَهُ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ وَنَحْنُ نَسْأَلُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ رَجُلٌ قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ هَذَا الْخَمْرُ، فَإِنْ تَجِداهُ صَاحِيًا تَجِداهُ رَجُلًا عَرَبِيًّا، يُحَدِّثُكُمَا مَا شِئْتُمَا مِنْ حَدِيثٍ، وَإِنْ تَجِدَاهُ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَانْصَرِفَا عَنْهُ. فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ بِفِنَائِهِ، فَنَظَرَ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: ابْنُ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ نَاوَلَتْنِيكَ أُمُّكَ السَّعْدِيَّةُ بِعُرْضَتِكَ، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَمَعَتْ لِي قَدَمَاكَ فَعَرَفْتُكَ. قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّا جِئْنَاكَ لِتُخْبِرَنَا عَنْ قَتَلِكَ حَمْزَةَ كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: كُنْتُ عَبْدًا لِجُبَيرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَكَانَ عَمُّهُ طُعَيْمَةُ بْنُ عَدِيٍّ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: إِنْ قَتَلْتَ عَمَّ مُحَمَّدٍ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ. فَخَرَجْتُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ مَعَ حَرْبَتِي، وَإِنَّمَا هَمِّي أَنْ أُعْتَقَ، فَجَعَلْتُ حَمْزَةَ مِنْ شَأْنِي، فَعَمَدْتُ لَهُ، وَتَقَدَّمَنِي إِلَيْهِ سَبَّاعُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى. قَالَ: وَصَدَرْتُ عَنْهِ وَهُوُ يَهُدُّ النَّاسَ بِسَيْفِهِ هَدًّا، كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ، فَلَمَّا تَقَدَّمَنِي إِلَيْهِ سَبَّاعٌ، قَالَ حَمْزَةُ: هَلُمَّ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ. قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ، فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَهُ، وَاسْتَتَرْتُ بِشَيْءٍ، هَزَزْتُ حَرْبَتِي حَتَّى إِذَا رَضِيتُ مِنْهَا دَفَعْتُهَا، فَوَقَعَتْ فِي ثُنَّتِهِ. قَالَ: وَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَغُلِبَ، وَاعْتَزَلْتُ وَرَجَعْتُ فِي النَّاسِ إِلَى مَكَّةَ، وَعَتَقْتُ، فَلَمَّا فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، فَأَقَمْتُ بِهَا، فَلَمَّا أَجْمَعَ أَهْلُ الطَّائِفِ عَلَى مُصَالَحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَيَّتْ عَلَيَّ الْمَذَاهِبُ، فَجَعَلْتُ أَتَذَكَّرُ أَيْنَ أَذْهَبُ؟ فَبَيْنَا أَنَا فِي هَمِّي إِذْ عَرَضَ لِي رَجُلٌ، فَقَالَ: مَالِي أَرَاكَ هَكَذَا؟ قُلْتُ: هَذَا الرَّجُلُ قَدْ بَلَغْتُ مِنْ عَمِّهِ، وَقَدْ أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى مُصَالَحَتِهِ، فَمَا أَدْرِي أَيْنَ أَذْهَبُ؟ قَالَ: فَوَاللهِ مَا يَقْتُلُ أَحَدًا أَتَاهُ وَشَهِدَ شَهَادَتَهُ. فَخَرَجْتُ كَمَا أَنَا، فَوَاللهِ مَا شَعَرْتُ حَتَّى قُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَقَالَ: «وَحْشِيٌّ؟» قُلْتُ: وَحْشِيٌّ، وَشَهِدْتُ بِشَهَادَتِهِ، فَقَالَ: «وَيْحَكَ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَتَلِكَ حَمْزَةَ، كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ وَاللهِ كَمَا أَخْبَرْتُكُمَا، فَقَالَ: «وَيْحَكَ، غَيِّبْ عَنِّي وَجْهَكَ» . فَكُنْتُ أَتَجَنَّبُهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ تَعَالَى، فَلَمَّا بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ الْجَيْشَ إِلَى الْيَمَامَةِ خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَجَعَلْتُ مُسَيْلِمَةَ مِنْ شَأْنِي، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعِي حَرْبَتِي الَّتِي قَتَلْتُ بِهَا حَمْزَةَ. قَالَ: فَقَذَفْتُهُ بِالْحَرْبَةِ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ، فَرَبُّكَ أَعْلَمُ أَيُّنَا قَتَلَهُ، فَإِنْ أَكُ قَتَلْتُهُ فَقَدْ قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ وَشَرَّ النَّاسِ
ترجمہ

حفص بن عمرو بن امیہ ضمری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور عبیداللہ بن عدی بن خیار نکلے، تو ہم روم کے درے میں داخل ہوئے، پھر ہمارا گزر حمص سے ہوا، اور وہاں وحشی (رضی اللہ عنہ) تھے۔ تو میں نے کہا: کیوں نہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں کہ انہوں نے سیدنا حمزہ رحمہ اللہ کو کیسے قتل کیا؟ چنانچہ ہم ان کی طرف چل پڑے، تو راستے میں ایک شخص ملا اور ہم اس سے ان کے بارے میں پوچھ رہے تھے، تو اس نے کہا: وہ ایسے شخص ہیں جن پر شراب غالب آ چکی ہے، اگر تم انہیں ہوش میں پاؤ تو وہ ایک عربی آدمی ہیں، جو چاہو تمہیں بات بتا دیں گے، اور اگر ان کی حالت اس کے برعکس پاؤ تو ان سے واپس لوٹ آؤ۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے صحن میں پایا، تو انہوں نے عبیداللہ بن عدی کی طرف دیکھا اور کہا: عدی بن خیار کا بیٹا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں اس وقت سے نہیں دیکھا جب تمہاری ماں، جو بنو سعد سے تھیں، تمہیں میرے سامنے لائی تھیں، اور اب تو صرف تمہارے قدموں کی چمک سے میں نے تمہیں پہچانا۔ میں نے ان سے کہا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے حمزہ کو کیسے قتل کیا؟ انہوں نے کہا: میں جبیر بن مطعم کا غلام تھا، اور ان کے چچا طعیمہ بن عدی بدر کے دن قتل ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: اگر تم نے میرے چچا کے بدلے میں محمد کے چچا کو قتل کر دیا تو تم آزاد ہو۔ چنانچہ میں احد کے دن لوگوں کے ساتھ اپنی برچھی لے کر نکلا، اور میری فکر صرف یہ تھی کہ میں آزاد ہو جاؤں، تو میں نے حمزہ کو اپنا نشانہ بنا لیا، اور ان کی طرف بڑھا، تو سباع بن عبدالعزیٰ مجھ سے پہلے ان کی طرف بڑھ گیا۔ میں ان سے ذرا ہٹ کر تھا جبکہ وہ اپنی تلوار سے لوگوں کو زبردست انداز میں مار رہے تھے، گویا وہ ایک خاکستری اونٹ ہوں۔ جب سباع ان کی طرف بڑھا تو حمزہ نے کہا: آ جا اے ختنہ کرنے والی عورت کے بیٹے! وہ ان کے قریب ہوا اور انہیں مارا، لیکن گویا نشانہ چوک گیا۔ میں کسی چیز کی آڑ میں چھپا ہوا تھا، میں نے اپنی برچھی ہلائی یہاں تک کہ جب میں اس سے مطمئن ہو گیا تو اسے پھینکا، تو وہ ان کی ناف کے نیچے جا لگی۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگے لیکن قابو نہ پا سکے، اور میں الگ ہو گیا اور لوگوں کے ساتھ مکہ واپس لوٹ آیا، اور آزاد ہو گیا۔ پھر جب نبی کریم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو میں طائف کی طرف نکل گیا اور وہاں ٹھہرا رہا۔ پھر جب طائف والوں نے نبی کریم ﷺ سے صلح کرنے کا فیصلہ کر لیا تو مجھ پر سارے راستے تنگ ہو گئے، تو میں سوچنے لگا کہ کہاں جاؤں؟ اسی فکر میں تھا کہ ایک آدمی میرے سامنے آیا اور کہا: تمہیں کیا ہوا کہ میں تمہیں اس حال میں دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: یہ بات ہے کہ میں نے ان کے چچا کو قتل کیا تھا، اور اب میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ ان سے صلح کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! وہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرواتے جو ان کے پاس آکر کلمہ شہادت پڑھ لے۔ چنانچہ میں اسی حالت میں نکل پڑا، اللہ کی قسم! مجھے ہوش ہی نہ رہا یہاں تک کہ میں مدینہ میں آپ ﷺ کے سر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”وحشی؟“ میں نے کہا: جی وحشی، اور میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! مجھے بتاؤ کہ تم نے حمزہ کو کیسے قتل کیا؟“ چنانچہ میں نے آپ کو وہی واقعہ بتایا جو اللہ کی قسم میں نے تم دونوں کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے رکھو۔“ چنانچہ میں آپ ﷺ سے دور ہی رہتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یمامہ کی طرف لشکر بھیجا تو میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا، اور مسیلمہ کو اپنا نشانہ بنایا، تو میں اور انصار کا ایک شخص اس پر حملہ آور ہوئے، میرے پاس وہی برچھی تھی جس سے میں نے حمزہ کو قتل کیا تھا۔ میں نے اسے برچھی سے نشانہ بنایا، اور انصاری نے بھی اس پر حملہ کیا، تو تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا۔ اگر میں نے اسے قتل کیا ہے تو میں نے بہترین انسان اور بدترین انسان دونوں کو قتل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2934
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 147، حدیث 2947