حدیث نمبر: 2931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَمِعَ نِسَاءَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ عَلَى هَلْكَاهُنَّ، فَقَالَ: «لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ» . فَجِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارُ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ عِنْدَهُ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ، فَقَالَ: «يَا وَيْحَهُنَّ، إِنَّهُنَّ هَاهُنَا حَتَّى الْآنَ، مُرْهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ احد کے دن واپس آئے تو بنی عبدالاشہل کی عورتوں کو اپنے مقتولین پر روتے سنا، تو فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے کوئی رونے والی نہیں۔“ چنانچہ انصار کی عورتیں آپ ﷺ کے پاس حمزہ پر رونے کے لیے آ گئیں۔ آپ ﷺ سو رہے تھے کہ ان کے رونے کی آواز سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ”افسوس ان پر! یہ ابھی تک یہاں ہی ہیں؟ انہیں حکم دو کہ واپس چلی جائیں، اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2931
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 146، حدیث 2944