❮
❯
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَطْلُبُهُ لَا تَدْرِي مَا صَنَعَ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ: اذْكُرْ لِأُمِّكَ. وَقَالَ الزُّبَيْرُ لِعَلِيٍّ: اذْكُرْ أَنْتَ لِعَمَّتِكَ. فَقَالَتَ: مَا فَعَلَ حَمْزَةُ؟ فَأَرَيَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا» . فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا، وَدَعَا لَهَا، فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: «لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ حَوَاصِلِ الطَّيْرِ وَبُطُونِ السِّبَاعِ» . ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَى، فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ، فَيَضَعُ تِسْعَةً وَحَمْزَةَ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ، ثُمَّ دَعَا بِتِسْعَةٍ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب احد کے دن حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا انہیں تلاش کرتی ہوئی آئیں، انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، تو ان کی ملاقات علی اور زبیر (رضی اللہ عنہما) سے ہوئی۔ علی نے زبیر سے کہا: تم اپنی والدہ (صفیہ) کو بتاؤ۔ اور زبیر نے علی سے کہا: تم اپنی پھوپھی کو بتاؤ۔ اس پر صفیہ نے پوچھا: حمزہ کا کیا ہوا؟ دونوں نے ظاہر کیا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے اس کی عقل پر خوف ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور ان کے لیے دعا کی، تو انہوں نے ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کہا اور روئیں۔ پھر آپ ﷺ حمزہ کے پاس آئے، جن کی مثلہ کی گئی تھی، اور کھڑے ہو کر فرمایا: ”اگر عورتوں کی بےقراری نہ ہوتی تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ پرندوں کے پیٹوں اور درندوں کے شکموں سے قیامت کے دن اٹھائے جاتے۔“ پھر آپ ﷺ نے شہداء کا حکم دیا، تو ان پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، ہر بار نو شہداء اور حمزہ کو ایک ساتھ رکھتے، اور ان پر سات تکبیریں کہتے، پھر انہیں اٹھا لیا جاتا اور حمزہ کو چھوڑ دیا جاتا، پھر مزید نو شہداء لائے جاتے اور ان پر سات تکبیریں کہی جاتیں، یہاں تک کہ سب سے فارغ ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2922
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 142، حدیث 2935