المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الحوراء عن الحسن بن علي رضي الله عنه باب: ابوالحوراء کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مِثْلُ مَنْ كُنْتَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَمَا عَقَلْتَ عَنْهُ؟ قَالَ: عَقَلْتُ عَنْهُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الشَّرَّ رِيبَةٌ، وَالْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ، وَعَقَلْتُ عَنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وكَلِماتٍ أَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْقِضائِهِنَّ، قَالَ: " قُلِ: اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنَ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ". قَالَ بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: فَدَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فِي الشِّعْبِ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، هُنَّ كَلِمَاتٌ عَلَّمَنَاهُنَّ أَنْ نَقُولَهُنَّ فِي الْقُنُوتِابوالحوراء کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: آپ رسول اللہ ﷺ کے دور میں کیسے تھے؟ اور آپ نے ان سے کیا سمجھا اور یاد رکھا؟ فرمایا: میں نے ان سے یہ یاد رکھا کہ میں نے انہیں فرماتے سنا: ”جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، کیونکہ برائی شک ہے اور بھلائی اطمینان ہے۔“ اور میں نے ان سے پانچوں نمازیں یاد رکھیں، اور چند کلمات جو میں ان کے اختتام پر کہتا ہوں، فرمایا: ”یوں کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ برید بن ابی مریم کہتے ہیں: پھر میں محمد بن علی (باقر) کے پاس گھاٹی میں گیا اور انہیں یہ حدیث ابوالحوراء سے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سنائی، تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، یہ وہی کلمات ہیں جو ہمیں قنوت میں کہنے کی تعلیم دی گئی تھی۔“