المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما باب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حدیث نمبر: 2614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاقِدٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ عَلَى قَفَاهُ، إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ يَدْرُجُ حَتَّى قَعَدَ عَلَى صَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَجِئْتُ أُمِيطُهُ عَنْهُ، فَاسْتَنْبَهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَيْحَكَ يَا أَنَسُ دَعِ ابْنِي وَثَمَرَةَ فُؤَادِي، فَإِنَّ مَنْ آذَى هَذَا فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ» . ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى الْبَوْلِ صَبًّا، فَقَالَ: «يُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ»ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: … اتنے میں سیدنا حسن رینگتے ہوئے آئے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے سینے پر بیٹھ گئے، پھر آپ کے سینے پر پیشاب کر دیا، تو میں اسے صاف کرنے کے لیے آیا، تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے اور فرمایا: ”افسوس تجھ پر، اے انس! میرے بیٹے اور میرے دل کے ٹکڑے کو چھوڑ دو، جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو تکلیف دی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور پیشاب پر بہا دیا، اور فرمایا: ”لڑکے کے پیشاب پر پانی بہایا جاتا ہے، اور لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے۔“