حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْمُسْتَظِلِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَيْنَا يَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي رَجَعْتُ فَدَعَانِي، فَقَالَ: «لَا أَقْبَلُ مِنْكَ حَتَّى تُبَايِعَ وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ فَبَايَعْتُهُ»
ترجمہ

ابوالمثنیٰ مستظل کہتے ہیں: میں نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سنا، جو ہمارے امیر تھے، وہ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، پھر میں واپس چلا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”میں تجھ سے اس وقت تک بیعت قبول نہیں کروں گا جب تک تو دوبارہ بیعت نہ کرے، اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط پر۔“ چنانچہ میں نے دوبارہ آپ ﷺ سے بیعت کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2444
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 347، حدیث 2457