المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو زرعة بن عمرو بن جرير عن جده باب: ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کی اپنے دادا سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ الزَّيَّاتُ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ» ، فَأَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَرَحَّبُوا بِهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَهْلَ قُبَاءَ إِيتُونِي بِأَحْجَارٍ مِنْ هَذِهِ الْحَرَّةِ» فَجُمِعَتْ عِنْدَهُ أَحْجَارٌ كَثِيرَةٌ وَمَعَهُ عَنَزَةٌ لَهُ، فَخَطَّ قِبْلَتَهُمْ، فَأَخَذَ حَجَرًا، فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ خُذْ حَجَرًا، فَضَعْهُ إِلَى حِجْرِي» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ، أَبِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ بِآخِرَةٍ فَقَالَ: «وَضَعَ رَجُلٌ حَجَرَهُ حَيْثُ أَحَبَّ عَلَى ذِي الْخَطِّ»سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”ہمیں قباء والوں کے پاس لے چلو تاکہ ہم انہیں سلام کریں۔“ چنانچہ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، انہیں سلام کیا اور انہوں نے آپ ﷺ کو خوش آمدید کہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہل قباء! اس پتھریلی زمین سے مجھے کچھ پتھر لا دو۔“ چنانچہ آپ ﷺ کے پاس بہت سے پتھر جمع کر دیے گئے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کا ایک نیزہ تھا، آپ ﷺ نے ان کی قبلہ کی لکیر کھینچی، پھر ایک پتھر لیا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے رکھا، پھر فرمایا: ”اے ابوبکر! ایک پتھر لے کر اسے میرے پتھر کے پاس رکھو۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! ایک پتھر لے کر اسے ابوبکر کے پتھر کے ساتھ رکھو۔“ پھر متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے عثمان! ایک پتھر لے کر اسے عمر کے پتھر کے ساتھ رکھو۔“ پھر آخر میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ہر آدمی اپنا پتھر جہاں چاہے، اسی لکیر کی حد میں رکھ دے۔“