حدیث نمبر: 2405
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ الزَّيَّاتُ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ» ، فَأَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَرَحَّبُوا بِهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَهْلَ قُبَاءَ إِيتُونِي بِأَحْجَارٍ مِنْ هَذِهِ الْحَرَّةِ» فَجُمِعَتْ عِنْدَهُ أَحْجَارٌ كَثِيرَةٌ وَمَعَهُ عَنَزَةٌ لَهُ، فَخَطَّ قِبْلَتَهُمْ، فَأَخَذَ حَجَرًا، فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ خُذْ حَجَرًا، فَضَعْهُ إِلَى حِجْرِي» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ، أَبِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ بِآخِرَةٍ فَقَالَ: «وَضَعَ رَجُلٌ حَجَرَهُ حَيْثُ أَحَبَّ عَلَى ذِي الْخَطِّ»
ترجمہ

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”ہمیں قباء والوں کے پاس لے چلو تاکہ ہم انہیں سلام کریں۔“ چنانچہ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، انہیں سلام کیا اور انہوں نے آپ ﷺ کو خوش آمدید کہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہل قباء! اس پتھریلی زمین سے مجھے کچھ پتھر لا دو۔“ چنانچہ آپ ﷺ کے پاس بہت سے پتھر جمع کر دیے گئے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کا ایک نیزہ تھا، آپ ﷺ نے ان کی قبلہ کی لکیر کھینچی، پھر ایک پتھر لیا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے رکھا، پھر فرمایا: ”اے ابوبکر! ایک پتھر لے کر اسے میرے پتھر کے پاس رکھو۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! ایک پتھر لے کر اسے ابوبکر کے پتھر کے ساتھ رکھو۔“ پھر متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے عثمان! ایک پتھر لے کر اسے عمر کے پتھر کے ساتھ رکھو۔“ پھر آخر میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ہر آدمی اپنا پتھر جہاں چاہے، اسی لکیر کی حد میں رکھ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2405
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 339، حدیث 2418