حدیث نمبر: 21862
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزِ الْكَعْبِيِّينَ: أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ: " عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ. قُلْتُ: مَا الْمُكَافَأَتَانِ؟ قَالَ: الْمِثْلَانِ "
ترجمہ

سیدہ ام بنی کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکے پر دو برابر بکریاں اور لڑکی پر ایک بکری ہے۔“ میں نے عرض کیا: برابر کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں ایک جیسی ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21862
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 165، حدیث 400