حدیث نمبر: 21817
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي، قَالَتْ: «شَهِدْتُ آمِنَةَ لَمَّا وَلَدَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ نَظَرْتُ إِلَى النُّجُومِ تَدَلَّى، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ لَتَقَعَنَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا وَلَدَتْ، خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهُ الْبَيْتُ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ وَالدَّارُ، فَمَا شَيْءٌ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، إِلَّا نُورٌ»
ترجمہ

سیدہ ام عثمان بنت ابی العاص ثقفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں آمنہ کے پاس اس وقت موجود تھی جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا۔ جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا تو میں نے ستاروں کو اتنا جھکتے دیکھا کہ میں کہنے لگی، یہ مجھ پر گر پڑیں گے۔ پھر جب انہوں نے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا جس سے وہ گھر اور صحن روشن ہو گیا جس میں ہم تھے، اور مجھے نور کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21817
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 147، حدیث 355