حدیث نمبر: 21674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ أَمْرِ عَائِشَةَ إِذِ قِيلَ لَهَا مَا قِيلَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عُذْرَهَا، فَقَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فَعَلَ اللهُ بِمِسْطَحٍ وَفَعَلَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ؟ قَالَتْ: لِأَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَأَيُّ حَدِيثِهِ؟ فَأَخْبَرَتْهَا، قَالَتْ: «سَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى نَافِضٍ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِهَذِهِ؟ قَالَتْ: فَقُلْنَا حُمَّى أَخَذْتَهَا، قَالَ: فَلَعَلَّهُ مِنْ أَجَلِّ حَدِيثٍ تُحَدِّثُ بِهِ، قَالَتْ: فَقَعَدَتْ وَقَالَتْ: وَاللهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي، وَإِنِ اعْتَذَرْتُ لَا تَعْذِرُونِي، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مَثَلُ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ، قَالَتْ: وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا أَنْزَلَ فَأَتَاهَا، فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ بِحَمْدِ اللهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ "
ترجمہ

… (سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) ام مسطح نے کہا: اللہ مسطح کا ستیاناس کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیونکہ وہ بھی اس بات کو پھیلانے والوں میں شامل تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون سی بات؟ تو اس نے انہیں بتا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”کیا رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بات سنی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ تو وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں، اور جب ہوش میں آئیں تو ان پر کپکپاہٹ والا بخار تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے کیا ہوا؟“ ہم نے کہا: انہیں بخار چڑھ آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید یہ کسی بڑی بات کی وجہ سے ہے جو اس کے بارے میں کہی جا رہی ہے۔“ تو وہ بیٹھ گئیں اور کہا: اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں تو تم مجھے سچا نہیں مانو گے، اور اگر عذر پیش کروں تو تم مجھے معذور نہیں سمجھو گے، میری اور تمہاری مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے، اور اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے اس بات پر جو تم بیان کر رہے ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے گئے، پھر اللہ عزوجل نے جو آیات نازل فرمانی تھیں نازل فرمائیں، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی تعریف سے، نہ کہ کسی اور کی تعریف سے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21674
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 83، حدیث 212