حدیث نمبر: 21655
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِي الْكَذِبِ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُدُّهُ كَذِبًا: «الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ يَزِيدُ فِي الْقَوْلِ يُرِيدُ بِهِ الْإِصْلَاحَ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا»
ترجمہ

… سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی معاملے میں جھوٹ کی اجازت دیتے نہیں دیکھا، سوائے تین مواقع کے، جنہیں رسول اللہ ﷺ جھوٹ شمار نہیں فرماتے تھے: ”وہ آدمی جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور صلح کی خاطر بات میں کچھ اضافہ کر دیتا ہے، اور وہ آدمی جو جنگ میں بات کرتا ہے، اور وہ آدمی جو اپنی بیوی سے بات کرتا ہے اور بیوی اپنے شوہر سے بات کرتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21655
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 77، حدیث 193