المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ميمونة بنت صبيح أم أبي هريرة باب: سیدہ میمونہ بنت صبیح رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، قَالَ: ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَاللهِ مَا خَلَقَ اللهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي، قُلْتُ وَمَا عَلِمْتَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ أُمِّي كَانَتِ امْرَأَةً مُشْرِكَةً، وَكُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، وَإِنِّي دَعَوْتُهَا فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ» ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدَعْوَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ فَسَمِعْتُ بِخَضْخَضَةِ الْمَاءِ، وَسَمِعْتُ خَشْفَةَ رِجْلِي، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، كَمَا أَنْتَ وَفَتَحَتِ الْبَابَ وَلَبِسَتْ دِرْعِهَا، وَعَجِلَتْ عَلَى خِمَارِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ، كَمَا كُنْتُ أَبْكِي مِنَ الْحُزْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ أَجَابَكَ فِي أُمِّي، فَادْعُ اللهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ حَبِّبْ عَبْدَكَ وَأَمَتَكَ إِلَى عِبَادَكَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَحِبَّهُمْ إِلَيْهِمَا»ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: … وہ میرے سامنے انکار کرتی ہے، اور میں نے اسے بلایا تو اس نے مجھے آپ ﷺ کے بارے میں وہ باتیں سنائیں جو مجھے ناگوار گزریں، تو آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے۔“ میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی دعا کی خوشخبری اسے دوں، جب میں دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا، میں نے پانی کے چھلکنے کی آواز سنی اور اس نے میرے قدموں کی چاپ سنی، تو اس نے کہا: اے ابوہریرہ! تھوڑا ٹھہرو۔ پھر دروازہ کھولا، اپنی قمیص پہنی، جلدی سے اپنی اوڑھنی اوڑھی اور کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو میں خوشی سے روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آیا جیسے پہلے غم سے رویا کرتا تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے میری والدہ کے بارے میں آپ کی دعا قبول فرما لی، اب اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے اور میری والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور انہیں ہمارا محبوب بنا دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اپنے اس بندے اور اس کی ماں کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور انہیں ان دونوں کا محبوب بنا دے۔“