المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب اللام — ما أسندت أم الفضل عبد الله بن عباس عن أمه أم الفضل باب: اللام — سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کی مرویات؛ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اپنی والدہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21479
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ الْعَبَّاسِ وَهِيَ صُبَيَّةٌ، فَوَضَعْتُهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَتْ فَلَكَمَتْ فِي ظَهْرِهَا، ثُمَّ احْتَمَلَتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا، ثُمَّ قَالَ: «اسْلُكُوا بِالْمَاءِ فِي سَبِيلِ الْمَبُولِ»ترجمہ
عکرمہ رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں ام حبیب بنت عباس کو نبی کریم ﷺ کے پاس لائی جبکہ وہ ایک چھوٹی بچی تھی، تو میں نے اسے نبی کریم ﷺ کی گود میں بٹھا دیا، تو اس (بچی) نے پیشاب کر دیا، اس پر اس کی پیٹھ پر ہاتھ مار دیا گیا، پھر اسے اٹھا لیا گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، ایسا نہ کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک پیالہ پانی منگوایا اور اسے پیشاب کی جگہ پر بہا دیا، پھر فرمایا: ”پانی کو پیشاب کے راستے پر بہنے دو۔“