حدیث نمبر: 21442
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي، وَكَانَتْ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ حَدَّثَتْهَا، «أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ أُبَّاقٍ حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقُدُومِ - وَهُوَ جَبَلٌ - أَدْرَكَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ زَوْجَهَا قُتِلَ، وَأَنَّهُ تَرَكَهَا فِي مَسْكَنٍ لَيْسَ لَهُ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الِانْتِقَالِ، فَأَذِنَ لَهَا، فَانْطَلَقَتْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِبَابِ الْحُجْرَةِ أَمَرَ بِهَا فَرُدَّتْ، وَأَمَرَهَا أَنْ تُعِيدَ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، فَفَعَلَتْ، وَأَمَرَهَا أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ مَحِلَّهُ»
ترجمہ

سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا، جو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ جب وہ طرف القدوم (ایک پہاڑ) پر پہنچے تو ان غلاموں نے انہیں پکڑ کر قتل کر دیا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کے شوہر قتل کر دیے گئے ہیں اور انہیں ایک ایسے گھر میں چھوڑا ہے جو ان کی ملکیت نہیں، اور انہوں نے میکے منتقل ہونے کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ وہ روانہ ہوئیں، یہاں تک کہ جب وہ حجرے کے دروازے پر پہنچیں تو آپ ﷺ نے انہیں واپس بلوا لیا اور حکم دیا کہ وہ اپنی بات دوبارہ بیان کریں، چنانچہ انہوں نے ایسا کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر سے اس وقت تک نہ نکلیں جب تک عدت کی مدت پوری نہ ہو جائے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21442
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 439، حدیث 1074