حدیث نمبر: 21387
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَرَّ إِلَيْهَا رَجُلَانِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأَجَارَتْهُما، دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ، فَقَالَ: لأَقْتُلَنَّهُما، فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا رَآنِي رَحَّبَ بِي، فَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، كُنْتُ قَدْ أَمَّنْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَخْتانِي، وَأَرَادَ عَلِيٌّ قَتَلَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ» ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ، فَسَتَرَتْ إِلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ وَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى
ترجمہ

… علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: میں انہیں ضرور قتل کروں گا، جب میں نے انہیں یہ کہتے سنا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی، آپ اس وقت مکہ کے بالائی حصے میں تھے، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”اے ام ہانی! تمہیں کیا لایا؟“ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میں نے اپنے سسرالی رشتے داروں میں سے دو آدمیوں کو امان دی تھی، اور علی نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ غسل کے لیے کھڑے ہوئے، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو پردہ کیا، پھر آپ ﷺ نے اپنا کپڑا لیا اور اسے اوڑھ لیا اور چاشت کی نفل نماز آٹھ رکعتیں پڑھیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21387
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 419، حدیث 1019